تازہ ترین
حلف نامے میں ترمیم پرپارلیمنٹ سے اجتماعی گناہ ہوا، فضل الرحمان

حلف نامے میں ترمیم پرپارلیمنٹ سے اجتماعی گناہ ہوا، فضل الرحمان

اسلام آباد(پاکستان اپڈیٹس )جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ختم نبوت اورناموس رسالت پرپوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے اوراس سلسلے میں پارلیمنٹ سے اجتماعی گناہ ہوا ہے۔ قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہارخیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس ایوان سے اجتماعی گناہ ہوا ہے۔ ختم نبوت اورناموس رسالت پر پوری امت مسلمہ متفق ہے، یہ کسی گروہ کا معاملہ نہیں ہے، یہ بحث نہیں کرنی چاہیے کہ کسی کی عقیدت کم اور میری زیادہ ہے۔ ہر دور نے ثابت کیا کہ نبیﷺ کی محبت ہر چیز سے بڑھ کر ہے، نواز شریف کی نااہلی پر انتخابی اصلاحات بل میں ترمیم پر ہنگامہ کے موقع پر ایک ایسا کام ہوا ہے جس کی باقاعدہ تحقیقات کی ضرورت ہے کہ یہ حرکت کس نے کی۔ ایسے موقع پر نقب لگانے والے نے نقب لگائی۔ اس معاملہ پر پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس حلف نامہ کو مکمل بحال کردیا گیا ہے۔ سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ یہ کہا جارہا تھا کہ ناموس رسالت کا قانون اقلیتوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ ممتاز قادری کوسزائے موت دے دی گئی لیکن جس کی وجہ سے یہ مسئلہ بنا وہ آج بھی جیل میں ہے، اسے بھی پھانسی کی سزا دی گئی ہے تاہم ابھی عمل نہیں ہوا، حدود کے قانون میں پرویز مشرف نے ممبران کو ساتھ ملا کر تبدیلی کردی، ملک میں زنا بالجبر کو جرم قراردیا جارہا ہے لیکن زنا بالرضا کو جرم نہیں بنایا گیا، دونوں ہی جرم ہیں اس وجہ سے قبائلی اور دیگر لوگ اپنی روایات کے مطابق سزائیں دیتے ہیں۔ فاٹا کے خیبر پختونخوا سے انضمام پرمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے معاملے پرکوئی بھی فیصلہ قبائلی عوام کے مفاد اور مرضی کو سامنے رکھ کر کیا جائے، رواج ایکٹ پر میں نے اپنی حکومت سے جھگڑا کیا۔ وہ ایکٹ یہاں سے پاس ہوا اور وہ کمیٹی میں ہے۔ آج حکومت اور اپوزیشن برملا اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ غلط تھا۔ اب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ بڑھانے کی بات ہو رہی ہے۔ لوئر کورٹ نہیں ہے تو کس فیصلے کے خلاف فیصلہ کریں گے۔

Print Friendly

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>