تازہ ترین
چینی میٹھا زہر ،،،از قلم : ڈاکٹر تصور حسین مرزا

چینی میٹھا زہر ،،،از قلم : ڈاکٹر تصور حسین مرزا

جو چیز بھی انسان کے لئے تکلیف کا باعث بنے وہ زہر کے زمرے میں شامل ہوتی ہیں ، کچھ اشیاءفوراً اپنا اثر دیکھا کر چند لمحوں میں خالقِ حقیقی کے پاس پہنچا دیتی ہیں اور کچھہ ایسے زہر بھی ہیں جن کو ہم بڑے اہتمام اور فخریہ طور کھاتے یا پیتے ہیں اور وہ دیمک کی طرح ہم کو اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں جیسا کہ WHITE SUGAR ( چینی)ہے ۔کہتے ہیں ہر چیز کے دو اثرات ہوتے ہیں ایک پرائمری اور سیکنڈری جب کہ چینی ایک ایسی چیز کا نام ہے جو ایک مخصوص حد تک تو نقصان نہیں پہنچاتی مگر جب حد سے تجاوز کر جائے تو ” زہر “ کا روپ بن جاتی ہے ۔ اس لئے چینی کو ہم ” میٹھا زہر “ کہتے ہیں  امریکی محکمہ صحت یعنی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ہدایات گزشتہ دنوں جاری ہدایات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو روزانہ صرف 50 گرام چینی کا استعمال کرنا چاہئے۔یہ تعداد 4 چائے کے چمچ یا سافٹ ڈرنک کے ایک کین سے کم کچھ کم ہوتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا بھی کہنا ہے کہ روزانہ 25 گرام یا چھ چائے کے چمچ چینی کا استعمال طبی لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
طبی ماہرین تو اسے جدید عہد کا زہر بھی قرار دیتے ہیں۔ سائنسی طبی تحقیقی رپورٹس کی روشنی میں
 ۔ نمبر 1 دانتوں کے مسائل یا کیویٹیز
چینی یہ میٹھی شے دانتوں کی صحت کی دشمن ہے اور اسے کیوٹیز کا بہت بڑا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ طویل عرصے سے دندان ساز عالمی ادارہ صحت کے روزانہ چھ چائے کے چمچ چینی کے استعمال کو بھی کم کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں چینی کے استعمال سے دانتوں کی سطح پر بیکٹریا پیدا ہوتے ہیں، جبکہ مٹھاس سے تیزاب پیدا ہوتا ہے جو دانتوں کی سطح کو تباہ کردیتا ہے۔
 نمبر 2 ذیابیطس
1988 سے 2008 کے درمیان امریکا میں ذیابیطس کے شکار افراد میں 128 فیصد اضافہ ہوا اور وہاں کے ڈھائی کروڑ لوگوں کو یہ مرض لاحق ہے۔ اسی طرح جن ممالک میں چینی کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے وہاں اس مرض کی شرح کافی بلند ہے۔ 51 ہزار خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ میٹھے مشروبات جیسے کولڈ ڈرنکس، میٹھی آئس ٹی، انرجی ڈرنکس وغیرہ استعمال کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح تین لاکھ سے زائد افراد پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں بھی اس نتیجے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بہت زیادہ کولڈ ڈرنکس کا استعمال نہ صرف وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا مرض بھی لاحق ہوسکتا ہے
نمبر 3 انسولین کی حساسیت
ناشتے میں بہت زیادہ مٹھاس پر جسم میں انسولین کی طلب کا مطالبہ بڑھا دے گی۔ انسولین وہ ہارمون ہے جو غذا کو قابل استعمال توانائی میں تبدیل کرنے کا کام کرتا ہے مگر جب اس کی مقدار زیادہ ہو تو جسم اس کے حوالے سے کم حساس ہوجاتا ہے اور خون میں گلوکوز جمنے لگتا ہے۔ ایک تحقیق کے دوران محققین نے چوہوں کو چینی کی بہت زیادہ مقدار سے بنی خوراک استعمال کرائی تو ان میں انسولین کی مزاحمت فوری طور پر سامنے آگئی۔ انسولین کی مزاحمت کی علامات میں تھکن، بھوک، دماغ میں دھند چھا جانا اور ہائی بلڈ پریشر شامل ہیں جبکہ یہ توند کے ارگرد اضافی چربی کا بھی باعث بنتی ہے۔
 نمبر 4 امراض قلب
بہت زیادہ میٹھی اشیاءکھانے کی عادت دل کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے ۔ خاص طور پر خواتین کے دل پر زیادہ اثر پڑ سکتا ہے ۔ امراض قلب کو ایڈز یا کینسر جتنی توجہ نہیں ملتی مگر یہ دنیا میں اموات کا باعث بننے والی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے کیونکہ ذیابیطس اور موٹاپے جیسے عناصر اس کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں چوہوں پر کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ چینی والی غذاو¿ں کے استعمال سے ہارٹ فیلیئر کے کیسز زیادہ سامنے آنے لگے جبکہ بہت زیادہ چربی یا نشاستہ دار غذاو¿ں کے استعمال سے اتنا خطرہ پیدا نہیں ہوا۔ ہزاروں افراد پر ہونے والی ایک پرانی تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ بہت زیادہ چینی کے استعمال اور دل کے امراض سے ہلاکتوں کے خطرے میں اضافے کے درمیان تعلق موجود ہے۔ اس تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنی روزمرہ کی کیلوریز کی ضروریات کا 17 سے 21 فیصد حصہ چینی سے پورا کرتے ہیں، ان میں امراض قلب سے ہلاکت کا خطرہ 38 فیصد تک بڑھ جاتا ہے
نمبر 5 گردوں کے امراض
 میٹھے مشروبات کا استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں
چینی سے بھرپور غذا اور بہت زیادہ سافٹ ڈرنکس کا استعمال گردوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے۔۔ تحقیق کے مطابق گردوں کے نقصان اور میٹھے مشروبات کے درمیان تعلق ایسے افراد میں سامنے آیا ہے جو 2 یا 3 کولڈ ڈرنکس روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ کولڈ ڈرنکس کے بہت زیادہ استعمال اور گردوں کے امراض کے درمیان ٹھوس تعلق کے شواہد ملے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چوہوں کو چینی سے بھرپور غذا کا استعمال کرایا گیا تو ان جانوروں کے گردوں نے آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیا جبکہ ان کے حجم میں بھی اضافہ ہوا۔
نمبر 6 جگر کے امراض
 زیادہ مقدار میں چینی جگر کو بہت زیادہ کام پر مجبور کردیتی ہے اور لیور فیلیئر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چینی کو جس طرح ہمارا جسم استعمال کرتا ہے وہ جگر کو تھکا دینے اور متورم کردینے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چینی کی بہت زیادہ مقدار جگر پر غیر الکحلی چربی بڑھنے کے مرض کا باعث بن سکتی ہے اور یہ چربی بتدریج پورے جگر پر چڑھ جاتی ہے۔ عام فرد کے مقابلے میں 2 گنا زیادہ سافٹ ڈرنکس استعمال کرنے والے افراد میں اس مرض کی تشخیص زیادہ ہوتی ہے۔ جگر پر غیر الکحلی چربی کے امراض کے شکار بیشتر افراد کو اکثر علامات کا سامنا نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ وہ کافی عرصے تک اس سے آگاہ بھی نہیں ہوپاتے۔اور یہ خاموش قاتل کا شکار بھی بن سکتے ہیں
نمبر 7موٹاپا
چینی کے زیادہ استعمال سے موٹاپا دیگر خطرناک امراض میں سے ایک مرض ہے ۔ روزانہ صرف ایک کین کولڈ ڈرنک کا استعمال ہی ایک سال میں تین کلو وزن بڑھنے کا باعث بن جاتا ہے جبکہ سوڈا کا ہر کین بہت زیادہ موٹاپے کا امکان بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ کولڈ ڈرنکس کا استعمال مضر ہے مگر دیگر میٹھی غذائیں کا موٹاپے سے تعلق کافی پیچیدہ ہے۔ چینی موٹاپے کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس، میٹابولک سینڈروم یا عادات جیسے زیادہ غذا کا استعمال اور ورزش نہ کرنا بھی اس کا باعث بنتے ہیں۔چینی کے زیادہ استعمال سے وہ ہارمون لپٹین جسکا کام ہوتا ہے جسم کو بتاتا ہے کہ کب اس نے مناسب حد تک کھالیا ہے۔ چینی کے زیادہ استعمال سے جن لوگوں میں اس ہارمون کی مزاحمت پیدا ہوجاتی ہے تو انہیں پیٹ بھرنے کا اشارہ کبھی موصول نہیں ہوتا اور یہ وزن کنٹرول کرنے کے لیے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ طبی تحقیقی رپورٹس میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ لپٹین کی مزاحمت موٹاپے کے اثرات میں سے ایک ہے چینی خاص طور پر اس کا سیرپ جو کولڈ ڈرنکس میں عام ہوتا ہے، براہ راست لپٹین کے لیول کو معمول سے زیادہ بڑھا دیتا ہے اور اس ہارمون سے متعلق جسمانی حساسیت میں کمی آجاتی ہے۔ جس سے انسان زیادہ کھانے لگتا ہے اور اس وجہ سے موٹاپا اور وزن میں زیادتی کا شکار ہو جاتا ہے
میٹھا زہر سفید چینی WHITE SUGHAR کے زیادہ استعمال سے لبلبے کا کینسر اور ہائی بلڈ پریشر جیسے عوامل سے انکار ممکن نہیں ۔ اس سے قبل کہ انسانی جسم خطرے کی گھنٹی دینا شروع کر دے آج سے ہی احتیاط شروع کر دی جائے تا کہ موزی امراض سے بچا جا سکے

Print Friendly

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>