تازہ ترین
ختم نبوت اورمسلم پیپلز موومنٹ۔۔۔جاوید صدیقی

ختم نبوت اورمسلم پیپلز موومنٹ۔۔۔جاوید صدیقی

 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں اور نبیوں میں امام النبی،ختم النبی، ختم الرسل،مولائے کل، کل کائنات ، رحمت عالم، سرور کونین ،نور خدا صرف اور صرف اپنے حبیب محمد مصطفیٰ ﷺ کو بنایا ہے اور اپنی مقدس الہامی کتاب قرآن الحکیم و الفرقان المجید میں انتہائی واضع طور پر اعلان کردیا کہ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ کے آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد تمام لوگ امتی ہیں اور اگر کسی بھی کافر کے ایما پر نام نہاد مسلمان نام رکھ کر مسلمانوں کے ایمان سے کھلواڑ کرنا نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے بلکہ ایسے خبیث ،ذلیل، کمین لوگوں کو جہنم رسید کرنے کا جذبہ ہی ایمان کی علامت ہوتا ہے، کوئی بھی انسان اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنی جان سے بھی زیادہ نبی کریم ﷺ پر جان نچھاور نہ کرتا ہوں ، ایمان کی شرط ہی محبت و عقیدت کیساتھ آپ ﷺ پر جان نچھاور کرنا ہےایسی لیئے مرد و عورت، بچہ و بوڑھا، جوان و نوجوان ، بیمار و صحت مند سب کے سب پر لازم و ملزوم ہے کہ وہ آپ کی شان و عظمت کیلئے گستاخ رسول کو جہنم رسد کردیں۔۔معزز قارئین!! برطانیہ کی جانب رخ کرنے والے وہ ہیں جو قادیانیت، لاہوریت، احمدیت سے دنیاوی عیش و تعائش کے طلبگارہیں یہ بھول گئے ہیں کہ وہ دنیاوی آقاؤں کی غلامی کرکے ملک پاکستان کی عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتے یہی وجہ ہے کہ مسلم پیپلز موومنٹ کے تینوں سربراہوں کے چہروں پر منحوسیت اور پھٹکار برستی رہتی ہے، قارئین کو یاد تو ہوگا کہ مسلم پیپلز موومنٹ پاکستانی تین سیاسی جماعتوں کا مجموعہ ہے یعنی پاکستان مسلم لیگ نون ، پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم۔معزز قارئین!!دنیا کے تمام مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک طرف کردیں اور مسلمانوں کو الگ یکجا کردیں تو ان سب میں خاص بات یہ ہوگی کہ مسلمان ہر برائی میں ملوث ہونے کے با وجود وہ اپنے نبی کریم ﷺ کی شان میں زرہ برابر بھی
 گستاخی کو برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔۔ معزز  قارئین!! آپ کو یاد ہوگا کہ سن انیس سو ستر کی دہائی میں نو ستارہ اور ایم آر ڈی کی تحریکوں میں شامل سیاسی جماعتوں نے اُس وقت کے سب سے زیادہ طاقتور وزیر اعظم کو ڈھیر کردیا تھا کہ تہتر کے آئین میں قادیانی، لاہوریاور احمدی مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو کافر قرار دےدیا جائے، پاکستانی عوام کا اس قدر دباؤ تھا کہ ذوالفقارعلی بھٹو نے مجبوراً انہیں کافر ڈکلیئر کردیاتھا، قومی اسمبلی میں مکمل فورم کیساتھ بھرپور انداز میں ناموس رسالت، ختم الرسل کے تحفظ کیلئے آئینی شق بنائی گئی، جب سے اب تک کسی بھی رہنما نے اس شق کو کبھی چھیڑنے کا سوچا بھی نہیں تھامگر مسلم پیپلز موومنٹ نے سوچ لیا کہ عوام کو بہت ڈرا لیا،بہت دھوکہ دے دیا، بہت مالی طور پر کمزور کرلیا اور پاک فوج کی مسلسل ہرزہ سرائی کرلی اب تو عوام اپنی افواج اور اداروں سے یقیناً بد ظن ہوگئے ہونگے کیوں نہ اب حلف نامے کو تبدیل کرلیا جائے۔۔یاد رکھنے کی بات تو یہ ہے کہ یہ عمل سوچی سنمجھی سازش کے تحت کیا گیا ہے اور اس میں اِس وقت کے تمام وزرا ، میاں  نواز شریف اور ان کی فیملی سمیت دیگر وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو پس پشت اور بظاہران کے ساتھ ہیں، پاکستان مسلم لیگ نون میں اکثریت ایسے ممبران کی ہے جو پاکستان مسلم لیگ نون کی فیملی کی پالیسیوں کے بالکل خلاف ہیں اور چاپلوس ٹولہ کی وجہ سے نہایت سخت ناراض بھی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری کی غلط پالیسیوں اور چاپلوس اراکین کے سبب پیپلز پارٹی اب پاکستان میں اپنا وجود کھو چکی ہے، آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کی مسلسل مداخلت نے بھی پی پی پی کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔۔ بے انتہا کرپشن اور لوٹ مار اور دین سے دوری نے پاکستان پیپلز پارٹی کی شکل ہی بدل دی ہے، ہندو ذہن کے مالک اراکین نے فلاحی سیاست نہیں بلکہ بد عنوان اور کرپشن سے لیس جماعت بناڈالی ہےیہی حال بلکہ اس سے بد تر حال ایم کیو ایم کا رہا ہے ، آج کراچی سمیت سندھ بھر کے تمام شہر ان کی بد نظمی کا ثبوت پیش کررہے ہیں، ایم کیو ایم نے ہمیشہ ماضی اور حال میں بھی نا اہل لوگوں کو اعلیٰ ترین منصب پر فائز کرکے لوکل گورنمنٹ کے تمام اداروں کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔۔۔۔اس وقت سندھ کے شہری علاقے ہوں یا دیہی تمام تر سندھ بربادی اور اجڑن کا منظر پیش کررہا ہے ، ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مسلسل نو سالوں سے جب پرویزمشرف نے سیاسی جماعتوں کو الیکشن کے ذریعے اقتدار دیا تھااُس وقت سے آج تک تمام سیاسی جماعتوں نے سوائے لوٹ مار کے عوام کو کچھ نہ دیا، نوکریاں فروخت کی جاتی رہی ہیں، پروموشن بیچے جاتے رہے ہیں، ٹرانسفر وں میں رشوت طلب کی جاتی رہی ہیں اداروں کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے لیکن جب عدالتیں اور محتسب ادارے ان سے باز پرسی کرتے ہیں تو یہ سیاسی شہید ہونے کا ڈرامہ رچاتے ہیں ان کی کوشش رہتی ہے کہ تمام گناہ کرکے بھی نیک و کار رہیں اور بے قصور وں کو قصوروار ٹھہراتے رہیں اور بلیک میل بھی کرتے رہیں ۔۔۔۔۔ عوام بھولی
نہیں کہ سابق صدر و ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں عوام کی سہولیات کو فراہم کرنے کیلئے بہترین پالیسیاں دیں جن پر عمل کرکے خوشحالی کا دور دورہ رہا۔ اُس وقت کے خذانے کی اصل صورتحال اور اب کی صورتحال کا موازنہ کیا جائے تو حقیقت سامنے آجائے گی کہ مسلم پیپلز موومنٹ نے پاکستان کو کس قدر نا تلافی نقصان سے دوچار کیا ہے۔۔ معزز قارئین!!پاکستان کا بڑا طبقہ کہتا ہے کہ شہر لاہور اور بلخصوص پنجاب کے لوگوں کے ایمان کا امتحان تھا کہ وہ این اے ایک سو بیس میں حق و سچ کا تعین کس طرح کرتے ہیں مگر افسوس کہ اپنے ووٹوں کی فروخت کرکے انھوں نے ثابت کردیا کہ کرپٹ ، بد عنوان، قانون شکن رہنما ہی انہیں پسند ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ چند لوگوں کی غلطی پورے صوبے کے لوگوں کو نہیں ملنی چاہیئے مجھے یقین ہے کہ آنے والے الیکشن میں تمام صوبوں کے ووٹرز اپنا ووٹ کا استعمال حقیقت میں ایسا کریں گے کہ ان کے مکار چہروں سے سیاہی پھیل جائے گی اور مستقبل کا پاکستان سیاسی جماعتون کے بغیر آزاد امیداواروں پر مشتمل ہوگا ان میںوہ لوگ ہونگے جو وطن عزیز اور ناموس رسات کی اہمیت و افادیت کو اچھی طر ح سمجھتے ہونگے۔معزز قارئین!!آپ یہ نہ سوچیں کہ الیکشن کمیشن کرپٹ، بدعنوان اور نا اہل ہے یقیناً ایسا ہی ہو مگر آپ اپنا ووٹ ضرور ڈالیئے گا جب ووٹرز کی تعداد زیادہ ہوگی تو کرپشن کرنے والے کرپشن کرنے کے با وجود شکست پائیں گے کیونکہ صحیح ووٹ دینے والوں ک ی تعداد بوگس ووٹ ڈالنے والوں سے زیادہ ہوگا اس طرح اچھی لوگ منتخب ہوسکیں گے ، نظام اور ریاست کی درستگی کیلئے اچھی لوگوں کا انتخاب ووٹرز حجرات پر ہوتا ہے ، شخصیت پرستی، جماعت پرستی، قوم پرستی، مسلک پرستی ،مطلب پرستی ان تمام پرستیوں سے بالائے طاق ہوکر صرف اور صرف وطن عزیز کی ترقی اور محب الرسول ﷺ کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے لوگوں کا چناؤ اب ضروری ہوگیا ہے ، اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور عاشقان رسول لوگوں کو منتخب کرکے قانون ساز اختیارات کے منصب پر فائز فرمائے آمین ثما آمین۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔

Print Friendly

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>