تازہ ترین
دولت واقتدارکی جنگ میں عوام کااستحصال کیوں؟،،،سردارعبدالخالق سکھانی

دولت واقتدارکی جنگ میں عوام کااستحصال کیوں؟،،،سردارعبدالخالق سکھانی

 اگرچہ کسی شخص کی ذاتی زندگی کوکریدنے کاتجسس دل میں لانااہلِ کرم کی نظرمیں نہایت گھٹیاعمل سمجھاجاتاہے۔ مگرجب کوئی شخص زمینی جائیدادکی ملکیت رکھنے کے باوجوداپنے گھرکے معاشی حالات درست کرنے میں ناکامی سے دوچارہونے لگے توبطورِعبرت اس کے اجڑے حال کی وجوہات پرروشنی ڈالناکوئی معیوب نہیں ہوتا۔اسی بنیادپرہم نے ایک علاقہ کے چوہدری صاحب کی پسِ پردہ کسمپرسی کی حقیقی وجہ کچھ یوں محسوس کی کہ دولت کے انبار اورشاہانہ مزاج کے امتزاج نے اس کی غصیلی آنکھوں کوخون کاپیاسابنایاتھا۔ہرلمحہ اپنی مونچھوں کاتاو برقرار رکھنے کی چاہت نے اسے احساسِ تفاخری کادلدادہ بنادیاتھا۔بالآخرغیرضروری اَناپرستی کے چکروں میں اس کی دولت کے دہانے تھانے کچہریوں کی دہلیزپرپانی کی طرح بہہ گئے۔مقدمات کی بھرمارنے اس کی دولت کاکچومرنکال کر چوہدری صاحب کواندرونی طورپرکنگال کردیا۔کھنڈرات کامنظرپیش کرنے والی عبرت ناک شاہی حویلی کی دہلیزپر غربت وافلاس کاجاری رقص دیکھ کرنوکرچاکربھی اپنی وفاداریاںبدل گئے۔ایک ساتھ جینے مرنے کاوعدہ کرنے والی رفیقہ حیات نے بھی تنگ آمدبہ جنگ کے تحت اعلانیہ طورپرخودغرضی سے سمجھوتہ کرلیا۔موصوف چوہدری صاحب کی المناک کہانی ملاحظہ کرنے کے بعدضمیرنے یہ حقیقت رقمطرازکرنے پرمجبورکردیاہے کہ اگر کسی گاوں کے سرکردہ وڈیرے اپنی چوھدراہٹ کی بقاءکے لئے ایک دوسرے سے دست و گریبا ں ہوجائیں۔ اورہرایک اپنی شخصی برتری کے زعم میںدوسرے کی مخالفت پرکمربستہ ہوجائے۔اگرہرایک وڈیرہ فصل کے پکتے ہی دنگا فسادکے شعلوں کوبھڑکاناشروع کردے۔فصلات کی آمدنی کوتھانہ کچہری کے احاطہ میں گھسیٹنا شروع کردیں۔ عدالتوں کی تاریخیں بھگتنے کے عذاب میںاپنے گھرکے حال احوال سے غافل ہوجائیں توپ کی بات ہے کہ وڈیروں کی باہمی خانہ جنگی کے باعث ان کے ملازم بھی اپنی بنیادی ذمہ داریوںسے غافل ہوکروڈیروں کی تباہی سے لطف اندوزہونے لگتے ہیں۔ان کے ذہن میںبھی کام چوری اورآرام خوری کاخیال پھرسے جنم لینے لگتا ہے ۔حتیٰ کہ ایسے موقع پران کی عدمِ توجہی کے باعث بے زبان جانوربھوک پیاس کی شدت میں کسی خداترس بندے کی راہ تکتے ہیں۔سچی بات ہے جب اصل مالک ہی فریقِ مخالف کے چڑھتے سورج کوبے نورکرنے کی جستجو میں اندھاہوکر اپنے حقوقِ مالکانہ کسی غیرذمہ دارشخص کے سپردکرکے خودتھانہ کچہری کے طواف کرنے لگے ۔اپنے بچوں کے بہترمستقبل کاسوچنے کی بجائے زمین کی آمدنی کوبڑے اہتمام کے ساتھ کسی وکیل یاتھانیدار پرنچھاورکرکے اپنی جگہ گیری کی بقاءکومقدم سمجھنے لگے۔توپھرایسے وڈیرے کی علاقائی سربراہی اورجاہ وجلال تادیرقائم نہیں رہ سکتا ۔ بہت جلد اس کی رعایااپنے وڈیرے کی فطری کوتاہیوں کے نتیجہ میں آزادمنش ہوکرکسی دوسرے شخص کی پگڑی کے سامنے سجدہ ریزہونے لگتی ہے۔مذکورہ تمہیدکے بعدیہ کہنابالکل بجاہوگاکہ پاکستان کے اندرونی حالات بھی اس وقت اس نہج پرپہنچ چکے ہیںکہ محض ذاتی بادشاہت کی اجارہ داری کے لئے سیاسی جماعتیں ملکی مفادات سے بالاتر ہوکراختلافات کی راہ ہموارکررہی ہیں۔ جمہوریت کی من چاہی تشریحات ذہنی انتشارکے فروغ کاذریعہ بن رہی ہیں۔اپنی کامیابیوں کی تاریخ رقم کرنے کی فکرمیں دوسرے کی مثبت کاوشوں کونظراندازکرنے کی سوچ دراصل عدمِ برداشت کاماحول پیداکررہی ہے۔جس کے نتیجہ میں اختلاف برائے اختلاف نے ملکی ترقی وخوشحالی کے عزائم کوخاک میں ملادیاہے۔قانونی عملداری کاتصورقانون کی دلدادہ قوم کے دل دماغ سے محوہوچکاہے۔ یہاں تک کہ ملکی اداروںکے ملازمین گرفت وبازپرس کے ڈرخوف سے آزادہوکراہلِ سیاست کاتماشادیکھ رہے ہیں۔ فرسودہ نظام کی تبدیلی کے دعوے دارآئین کی پاسداری سے بغاوت کرکے اپنے ہی جگرگوشوں کوتحفظ دینے کی پالیسی پرکاربندہیں۔عوام الناس کوفی الفورانصاف مہیاکرنے کے اعلانات کرنے والے اربابِ اقتدارتاحال اپنے ہی راستوں کے کانٹے صاف کرنے میںمصروف ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ینگ ڈاکٹرزجائے مسیحائی کاتقدس پامال کرتے ہوئے ایمرجنسی وارڈزکے قابلِ ترس مریضوں کی رگِ جاںکاٹ رہے ہیں ۔اپنے جائزوناجائزمطالبات منوانے کی کوشش میں تشددکاراستہ اختیارکررہے ہیں۔ ملاوٹ مافیاطبقے بلاخوف وخطرعوام الناس کوزہرکھلارہے ہیں۔سٹاک مافیا حکومتی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاکرریٹ کے معاملہ میں اپنی من مرضیاں کررہے ہیں۔برسرِاقتداراشخاص چینی کی مصنوعی قلت کوپروان چڑھاکر شوگرملزمالکان کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔ تعلیم کوبزنس کاسنہری پیشہ سمجھنے والے معمارِملت ہماری نسلِ نوکے مستقبل کی دھجیاں اڑارہے ہیں۔مفادات کے راستوں پرچل کرقوم کی خواہشات کا قتلِ عام کرنے والے افسران عدالتی احکامات کی تعمیل داری میں مجرمانہ غفلت کاارتکاب کررہے ہیں ۔ سرکاری اداروںمیںملازمت کی قومی امانت کامذاق اڑانے والے اہلکار موجودہ سیاسی افراتفری میںقوم کی خدمت کواپنا فریضہ سمجھنے کی بجائے محض گپ شپ میں وقت برباد کررہے ہیں۔جبکہ سائل حضرات گرمی کے سخت موسم میں دفاترکے باہرذلیل وخوارہورہے ہیں۔امن وامان کے قیام کے حوالہ سے پولیس کی کارکردگی ابھی کامل طورپر اپنا رنگ روپ دکھانہیں پاتی کہ احتجاج یااستقبال کے جلسے جلوس کی حفاظت کاگراں تکلیف مرحلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ایسے دلسوز حالات میں پیش آمدہ واقعات کے سرسری تذکرہ پراکتفاءکرتے ہوئے فقط اپنے حصہ کی حق بیانی کاقرض اتارناضروری معلوم ہوتاہے کہ عدالتِ عالیہ نے جس اہتمام کے ساتھ پاماناکیس کی تفصیلی سماعت کے بعدتاریخ سازفیصلہ سنانے کاریکارڈقائم کیاہے ۔اورمزید بھی اس سلسلہ میں مکمل طورپراپنی زیرِنگرانی مقدمات کوانتہائی شفافیت کے ساتھ دیکھنے میں پیش پیش ہے۔وہ اپنی جگہ قابلِ بیان ہے۔لیکن اس کے ضمن میںعرض ہے کہ عدالتِ عالیہ اپنے ذاتی اختیارات کے قانونی حق کے تحت عوام کوہرشعبہ زندگی میں مثالی انصاف کے فراہم کرنے کےلئے قانون کی بالادستی کوحسبِ روایت قائم ودائم رکھتے ہوئے اہلِ اقتدارکوبے چاری عوام کی حالت زارپرتوجہ دینے پرمجبورکرے ۔

Print Friendly

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>