تازہ ترین
ادھوری آزادی،،،حافظ ابتسام الحسن

ادھوری آزادی،،،حافظ ابتسام الحسن

آزادی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ رسول اللہ ﷺنے آزادی کو نعمت عظمی گنواتے ہوئے فرمایا :”کوئی بیٹا اپنے باپ کا حق ادا نہیں کرسکتا ،مگر یہ کہ اس کا باپ غلام ہو اور وہ اپنے والد کو خرید کر آزاد کردے۔“غلامی خواہ ایک پل کی ہو یا عمر بھر کی ہر ذی روح اس سے پناہ ہی مانگے گا ۔کہا جاتا ہے کہ آزادی کی ایک سانس غلامی کے کئی ادوار سے بہتر ہے اور غلامی کا ایک لمحہ سالوں سا طویل ہوتا ہے ۔آزاد ماحول اور آزاد فضا میں سانس کی قدرو قیمت صرف وہی بتاسکتے ہیں جن کی زندگیوں پر اغیار کے پہرے ہوں ،گردنوں پر غلامی کی مہریں ہوں ،گھٹ گھٹ کر جینا جن کا مقدر ہو ،جن کو کھل کر عبادت کرنے کی اجازت ہو او ر نہ تجارت کرنے کی ،جن کی اولادیں تو ہوں مگر ان پر حکم کسی اور کا چلتا ہو،جو نہ علم حاصل کرسکتے ہوں اور نہ اپنی آنکھوں میں سہانے مستقبل کے خواب سجا سکتے ہوں ،وہ کہ جن کو نہ خوشی کی پرواہ ہو اور نہ غم کا ڈر ،بہار آئے یا خزاں،فصل گل ہو یا بنجر زمین ،سورج آنکھ مچولی کھیلے یا آسمان برسے ،تارے اٹھکھیلیاں کریں یا ندی نالے آپے سے باہر ہوں ۔ان کے لیے سب برابر ہوتا ہے ۔بے جان،زندہ لاشیں ،ان کی زبانیں تو ہوتی ہیں مگر اپنی مرضی کا بول نہیں سکتے ،کان تو ہوتے ہیں مگر اپنی مرضی کا سن نہیں سکتے ،قدم تو ہوتے ہیں مگر اپنے مرضی سے چل نہیں سکتے ،دل و دماغ تو ہوتے ہیں مگر اپنی مرضی سے نہ دھڑکا سکتے ہیں اور نہ سوچ سکتے ہیں ۔ایسے لوگ ہی بتا سکتے ہیں کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کو پانے کے لیے وہ کچھ بھی قربان کر سکتے ہیں ۔
ٓٓٓٓٓآج ہم ایک آزاد قوم ہیں اور ایک آزاد وطن کی فضاﺅں میں سانس لے رہے ہیں ۔ہمارے بزرگوں نے غلامی جیسی لعنت سے چھٹکارہ پانے اور آزادی جیسی نعمت کو حاصل کرنے کے لیے ہر وہ قربانی دے ڈالی جس کا تصوربھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں کوئی اذان دینے سے نہیں روک سکتا ،ہمارے عبادت خانوں پر تالے نہیں لگے ہوئے ، ہمارے تاجر بلا خوف و خطر تجارت کرتے ہیں ،ہماری خواتین کی عصمتیں محفوظ ہیں،ہمارے بچوں پر فقط ہماری نگرانی ہے ،ہم ہر روز ایک نئے اور بہتر مستقبل کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں ،ہم بہار کے آنے پر خوش ہوتے ہیں اور خزاں کے چھانے پر رنجیدہ ،لہلہاتے کھیت ہمارے کسان کی آنکھوں میں چمک پیدا کرتے ہیں ،اٹھکھیلیاں کرتے تارے ،آپے سے باہر ہوتے ندی نالے ،برستا ہوا آسمان ،آنکھ مچولی کرتا سورج سب ہمارے کھلونے اورہمارے من کو بہلانے کے لیے قدرتی انعامات ہیں ۔ہم اپنی مرضی سے بول سکتے ہیں ،دیکھ سکتے ہیں ، سن سکتے ہیں،چل سکتے ہیں ،ہم بے جان لاشیں نہیں ہیں ،ہمارا ایک ضمیر ہے جو ہمیں روزانہ زندہ ہونے کی نوید سناتا ہے ۔آزادی کی اس نعمت پر ہم اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں، کم ہے ۔مگر ایک بات جو مجھے اندر ہی اندر کھائے جاتی ہے ۔وہ یہ ہے کہ ہم تو آزاد دیس کے باسی ہو گئے ،مگر کیا دنیا کے تمام مسلمانوں کو آزادی کا سکھ نصیب ہے ۔وہ بھی ویسے ہی آزاد ہیں جیسے ہم ہیں ۔تو سمجھ آتی ہے کہ ہم بحیثیت پاکستانی تو آزاد ہیں مگر بحیثیت مسلمان نہیں ۔کیونکہ اسلام کے مزاج میں یہ بات اول ہے کہ ایک مسلمان کی تکلیف دنیا کے تمام مسلمانوں کی تکلیف ہے اور جب تک وہ تکلیف سے آزاد نہیں ہو جاتا دوسرے اپنے آپ کو اس تکلیف سے مبرا خیال نہیں کرسکتے ۔ ان کو دوسرے مسلمانوں کا درد برابر سمجھ کر اسے بانٹنا ہو گا ۔ہمارے وہ نوجوان جنہوں نے جشن آزادی منانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈے ہوئے ہیں ،وہ منچلے جو چہروں پر پاکستان پرچم پینٹ کرواکے ،موٹر سائیکلوں کے سائلنسر اتار کے ،شور سے دوسروں کے کانوں کو تکلیف پہنچاکر ،ون ویلنگ سے سڑکوں کو روندتے ہوئے جشن آزادی منانے کا حق ادا کر رہے ہوتے ہیں ۔انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہماری شہ رگ (کشمیر) ہندو کے پنجے میں ہے ۔ہم ابھی آزادی کے جشن منانے میں کیسے مصروف ہو سکتے ہیں جب کہ اس پار سے ایک بوڑھا ہمیں روزانہ یہ یاد کرواتا ہے کہ اسلام کی نسبت اور تعلق سے ہم پاکستانی ہیں ،پاکستان ہماراہے ۔ہم آزادی کے نام پر مال روڈکی سڑکوں پر بھنگڑے کیسے ڈال سکتے ہیں جب کہ وادی کشمیر روزانہ لہو سے لال ہوتی ہے اور ہمارے خوبصورت ،سجیلے جوان ہندو کی گولیوں سے شہید ہورہے ہیں ،جن کا جرم فقط اتنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر آزادی منانا چاہتے ہیں۔ہمارا میڈیا سارا دن ملی نغمے سنا کر ہمیں یہ یقین دلوانے کی کوشش کرتا ہے کہ ہم آزاد ہیں تو اس عورت کا کیا ،جو کرفیو لگنے کے باوجود چودہ اگست کو پاکستان کے پرچم تلے یہ ترانہ پڑھتی ہے ”نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے “۔ان قیدیوں کا کیا جو آج جیل میں صرف اس وجہ سے ہیں کہ انہوں نے پچھلی چودہ اگست کو پاکستانی پرچم کو سرینگر کے لال چوک کی زینت بنایا تھا ۔ان آنکھوں کا کیا جنہیں صرف اس وجہ سے چھین لیا گیا کہ انہوں نے پاکستان سے الحاق کا خواب دیکھا تھا ،ان مسجدوں کی آزادی کا کیا جو پچھلے کئی مہینوں سے بند کر دی گئی ہیں ،ان گھروں کا کیا جو بارود لگا کر اڑا دیے گئے ،اگر ہم آزاد ہیں تو ابو القاسم کیوں شہید ہوا ،برہا ن نے جان کیوں لٹائی،سبزار کیوں کٹا ،بشیر کو کس جرم کی سزا ملی،جنید متو نے کس آزادی کے لیے اپنی جان رب ذوالجلا ل کے سپر د کردی ،ڈاکٹر قاسم فکٹو پچھلے بائیس سالوں سے کیوں پابند سلاسل ہے ،یاسین ملک کو آئے دن بیڑیوں کا زیور کیوں پہنایا جاتا ہے ،مسرت عالم بٹ نے کس جرم کی پاداش میں جیل میں اتنا عرصہ گزارا ہے ،آسیہ اندرابی کے آنسو کیوں تھمنے کا نام نہیں لیتے ،آئے دن حریت قیادت کی طرف سے ہڑتال کی کال کیوں دی جاتی ہے ،کیوں کشمیر ی جان جانے کے خوف کے باوجود سڑکوں پر ہوتے ہیں ،انڈین آرمی نہتے کشمیریوں پر لاٹھی چارج کیوں کرتی ہے ،آنکھیں ضائع کرنے والی گن کے فائر بے دریغ کیوں کھول دیتی ہے اور بھارت ایک خطہ کشمیر کے پیچھے اتنی طاقت کیوں صرف کر رہا ہے ۔؟
ان سب سوالوں کا یقیناایک ہی جواب ہے کہ کشمیری ہمیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ تم ہمارے بنا مکمل آزاد نہیںہوئے ہو ۔ہم بھی چودہ اگست کی تلاش میں ہیں اور ہمارا چودہ اگست تمہارے ساتھ منسلک ہے ۔ انڈیا چاہتا ہے کہ کشمیری چودہ اگست کی بجائے پندرہ اگست منائیں مگر کشمیری کسی طور پر اسے ماننے کو تیار نہیں ہیں ۔انہوں نے ظلم کا ہر کوڑا برداشت کرنے کے باوجود پندرہ اگست کو اپنے پاﺅں کی ٹھوکر پر اور چودہ اگست کو اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے اور اتنی دلجمعی اور خوش دلی سے ہم اپنا یوم آزادی نہیںمناتے ہوں گے جتنا کہ وہ مناتے ہیں۔کیونکہ بندوقوں کے سائے اور خوف کی چھاﺅں میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والے ہی حقیقی یوم آزادی مانتے ہیں ۔اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم ان سے اظہار محبت کس طرح کرتے ہیں اور آزادی کے ان پلوں میں انہیں کس طرح شریک کرتے ہیں۔تو آئیے !اگست کے اس مہینے میں آزادی کے موقع پر اپنے کشمیری بھائیوں کو یہ پیغام دیں کہ تمہاری آزادی کے بغیر ہماری آزادی بھی ادھوری ہے اور جشن بھی ۔ہماری آزادی تب مکمل ہو گی جب تم کفر سے آزاد ہو کر ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوگے ۔

Print Friendly

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>