تازہ ترین
تحریک آزادی نسواں اور اسلام…تحریر : حنظلہ عماد

تحریک آزادی نسواں اور اسلام…تحریر : حنظلہ عماد

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔۔۔۔۔۔ یہ جملہ ہم میں سے ہرایک کی سماعتوں پر خراش ڈالنے کا باعث بن چکا ہے۔یقینا یہ جملہ بر حق ہے لیکن ایسی صورت میں کہ جب وجود زن اپنے صحیح مقام پر ہو کیونکہ اگر کسی بھی تصویر میں کوئی بھی رنگ اپنے درست مقام پر نہ ہو تو نہ صرف تصویر کا توازن خراب ہو جاتا ہے بلکہ اس تصویر کی وقعت بھی بے مول ہو جاتی ہے۔خواتین جو ہمارے معاشرے کا نصف سے زائد حصہ ہیں، یقینا ان کا وجود اور معاشرے میں ان کا صحیح مقام پر ہونا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر یہ معاشرے میں صحیح مقام پرنہ ہوں تو معاشرہ بے اعتدالی اور بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔
یادرہے کہ ہم نے بات اعتدال کی کی ہے کہ معاشرہ اعتدال پررہے،خواتین کوجائز مقام دے۔ یہی عدل کاتقاضا ہے اور صرف خواتین کونہیں بلکہ مردوں کو بھی جائز مقام دیاجائے۔اک نظرمعاشرے پردوڑائیے۔ آپ کو خواتین کے حقوق اور ان کے مقام کے حوالے سے بھانت بھانت کی آراء ملیں گی۔ان میں سے ہر ایک اپنے تئیں ٹھوس دلائل بھی پیش کرے گا لیکن ان سب کوہم باآسانی دوگروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلا گروہ ہے جو خواتین کی آزادی اورحقوق کا نعرہ بلند کرتاہے۔یہ جدیدفکرسے مرعوب لوگ ہیں اور کسی صورت خاتو ن کوگھرمیں نہیں دیکھنا چاہتے۔
دوسرا گروہ وہ ہے کہ جو اسلام کے نام پرعورت کو اس کے جائز حقوق دینے سے بھی نالاں ہے۔یہ اپنی مروجہ روایات یعنی معاشرتی اقدار کو اسلام کالبادہ چڑھا کر ان کو عورتوں پر ٹھونس رہے ہیں۔یعنی یہ بھی اپنے اسے معاملے میں غلو سے کام لے رہے ہیں او ر اعتدال کی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔
اول الذکر کی اگربات کی جائے تویہ وہ گروہ ہے کہ جسے باقاعدہ سرمایہ کاروں نے محنت سے تیار کیا ہے۔ اس کی مختصرتفصیلات کچھ یوں ہے کہ جدید صنعتی انقلاب جو یورپ اور امریکہ میں18ویں صدی میں برپا ہوا،اس کے بعد افرادی قوت کی ضرورت بڑھی۔اس وقت تک عورت گھرمیں رہتی تھی لیکن اس موقع پر افرادی قوت بڑھانے اور سستی لیبرحاصل کرنے کے لیے اس عورت کو گھر سے باہرنکالنے کی منصوبہ سازی کی گئی۔اس کام کے لیے سب سے پہلے 1848ء میں”Declaration of Sentiments”یعنی اعلان جذبات کے نام سے ایک قرارداد عمل میں لائی گئی۔ آغاز اورتم ہیدبہت خوبصورت اورفطرت زن کے عین مطابق۔یعنی ان نکات پرمشتمل کہ مردنے ہمیشہ عورت کا استحصال کیاہے اوراپنا محکوم رکھاہے لیکن چونکہ عورت مرد کے برابر ہے۔لہٰذا اسے بھی معاشرے میں برابر کا کردار ادا کرناچاہیے۔ قراردادکا اس خوبصورت اعلان سے آغاز ہوا اور اختتام کی ابھی تک حدنہیں ہے کہ تباہی آج بھی جاری ہے۔ اسی دوران سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کوسستی لیبر ملی اور عورت گھر سے باہرنکلی۔اس کی بھی ضروریات بڑھیں۔ یوں معاشرہ بے ڈھنگم ہوا۔
نعرہ آج بھی وہی ہے کہ عورت مرد کے برابر ہے اورہرکام میں برابرکی شریک ہوسکتی ہے۔ یہی فکر پوری دنیا میں میڈیاکے ذریعے پھیلا دی گئی۔ بلکہ اگرمیں دماغوں میں ٹھونسی گئی کے الفاظ استعمال کروں تو مبالغہ نہ ہوگا۔اسی فکر نے عورت کے ذہن میں یہ بات بٹھائی کہ اگر وہ گھروالوں کی خدمت کرے گی تویہ غلامی ہوگی لیکن اگر باہروہ اپنی مسکراہٹ اور اداؤں کے ذریعے شوپیس بن کر کہیں لوگوں کو کھاناکھلائے گی اورکہیں دل بہلائے تو یہ اس کی آزادی ہے۔یہ اسی فکر کانتیجہ تھا کہ اس سے قبل جسم فروشی،قبیح فعل تھا اور عورت کا پورا جسم یکمشت بکتا تھا۔لیکن اب عورت کو ٹکڑوں میں بیچاجاتاہے۔مسکراہٹ الگ، ادائیں الگ، جسم الگ اور۔۔۔۔۔۔!! مزیدظلم یہ کہ وہ عورت اس پرخوش بھی رہے کہ وہ آزاد ہے لیکن جیسے ہی سن رسیدہ ہو اور چالیس کے وہائی میں پہنچے تو معاشرے میں اسے کوئی نہ پوچھے اور وہ ایک زائد المیعادچیز کی مانند زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے۔
اسی ”خوبصورت” نعرے نے کہ عورت مرد کے برابر ہے،معاشرے کاوہ حال کیاہے کہ آج یورپ امریکہ اپنے پرانے خاندانی نظام کوترس رہے ہیں اوران کااہل نظر طبقہ اس سے جان چھڑوانے کو ہے۔ اسی فکرسے متاثرلوگ ہمارے معاشرے میں بھی پائے جاتے ہیں۔یہ بھی عورت کی آزادی،اس کے حقوق اور برابری کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے لیے ہدف بہت آسان ہے اور یہ آسانی ان کے لیے ثانی الذکر گروہ نے پیدا کی ہے کہ جو ان کی مخالفت میں دوسری انتہاپرپہنچ گیا ہے اس گروہ کے نظریات کیاہیں اس کابھی جائزہ لیتے ہیں۔
یہ لوگ علاقائی روایات اور جاہل رسومات کو اسلام سمجھ کر سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ان رسومات او رروایات کی بناپر وہ عورت پر ظلم کرتے ہیں۔مثلاً کسی عورت کاونی کردینا،غیرت کے نام پر قتل اورناروا سلوک۔۔۔۔۔۔ اس کردار کے باعث عورت یہاں بھی اپنے جائز اور حقیقی مقام سے محروم رہتی ہے۔ اگرچہ اس گروہ میں نقصان کا اندیشہ نسبتاً بہت کم ہے لیکن یہاں جبرکے باعث بغاوت پیداہوتی ہے اور پھر گھروں کی عزتوں کااخباروں کی زینت بننا معمول بنتا ہے۔ اسی گروہ کی ستم ظریفیوں کے باعث عورتوں کی آزادی کے نام نہادعلمبردار خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور یوں آزادی کے نام پرہوس کے غلاموں کی ناجائز آزادی کا خوب سامان پیداہوتاہے۔یوں دونوں انتہاؤں کے لوگ مل کر اس معاشرے کو تباہی کے اس دھانے پر لاکھڑا کر تے ہیں کہ جہاں آج مغربی معاشرہ موجودہے جہاں نسب کے خانے میں والدہ کانام لکھا جاتاہے،نہ کہ والد کا۔۔۔۔۔۔! اسلام دین عدل ہے۔عدل سے مراد کہ ہر شے کو اس کاجائز اور حقیقی مقام دیتاہے۔اسلام نے عورت کو اس کاجائز اورحقیقی مقام دیاہے۔ اگرچہ معاشرے میں ایک گروہ ایسابھی ہے جوعورتوں کے حقوق کی اسلام میں بات کرتاہے۔ نبی ?کو عورتوں کے حقوق کاسب سے بڑا داعی قرار دیتاہے لیکن یہ گروہ وہ ہے کہ جو بات تو درست کرتا ہے لیکن اس کامطلب غلط نکالتاہے۔ اسلام نے عورت کو کیاحقوق دیے ہیں اورکس حدتک آزادی دی ہے تواس کامختصراً تذکرہ ہم آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
اسلام میں عورت کو اس کاجائزمقام یعنی اس کو گھر میں ٹھہرنے کاکہاگیاہے۔ ”وقرن فی بیوتکن”کے الفاظ اسی بات کے غمازہیں لیکن اس سے اگر یہ مراد لے لیا جائے کہ عورت کو گھر میں قید کردیاگیاہے تویہ اسی مثال کی مانند ہے کہ پانی سے آدھا بھرا گلاس بہت سے لوگوں کو آدھا بھرا ہونے بجائے آدھاخالی نظرآتاہے۔ یعنی وہ اس کامنفی پہلو اجاگر کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورت کی فطرت کے عین مطابق اس کی نزاکت کوپیش نظر رکھتے ہوئے معاشرے کے سردوگرم سے اسے محفوظ رکھاہے۔ اس کی ذمہ داری باپ کو سونپی گئی ہے کہ وہ اس کے ہرطرح کے حقوق کا خیال رکھے اور اس ذمہ داری میں اس کے بھائی کو بھی شریک کیا۔ یوں اسے شہزادی کادرجہ دیاکہ وہ گھرمیں آرام کرے اوراس کی سہولیات کا انتظام اس کاباپ اور بھائی کرے گا۔اس کے لیے معاشرے میں اس کاباپ اور بھائی محنت کریں گے ،نہ کہ وہ خود معاشرے میں نکل کے سرد وگرم تھپیڑے کھائے گی۔ بعدازاں اسے نکاح کے بعد شوہر کی صورت میں ملکہ کے عہدے پر فائز کیاکہ وہ گھر میں راج کرے اوراپنے شوہر کی دلجوئی کاسامان کرے۔ اس کاشوہر اس کے نان ونفقہ کاذمہ دار ہے ،خواہ وہ معاشرے میں دھکے کھائے یا باعزت روزگار کمائے۔ وہ اپنی بیوی کے حقوق پورے کرنے کاپابندہے۔اس کے بعد یہ ذمہ داری اس کے بیٹوں پر ڈال دی گئی۔ یوں تصویر کائنات میں رنگ برقرار رکھنے کے لیے وجود زن کی نزاکت کا بھرپور احساس کیاگیاہے لیکن یہاں اس سے مراد یہ بھی ہرگز نہ ہے کہ عورت کے گھر سے نکلنے پرپابندی ہے۔بلکہ بضرورت اس کا گھر سے نکلنا جائزہے ۔اسلام تواس کی آسانی کے لیے اسے گھرمیں ٹھہرنے کا سامان پیدا کرتاہے۔اگراس کی کوئی مجبوری ہے تو وہ نہ صرف گھرسے باہر جاسکتی ہے بلکہ شریعت کے طے کردہ، دائروں میں رہ کر اپنی اس ضرورت اور حاجت کو پورا بھی کر سکتی ہے۔
اختلاط مردوزن ایک اسی سلسلے میں اہم موضوع ہے۔ اگرہم نبوی معاشرے میں دیکھیں توہمیں جائز حدود تک اختلاط ملتاہے۔ یعنی شریعت کے دائرے میں رہ کر مردوں کاعورتوں سے یاعورتوں کامردوں سے معاملات کرنالیکن اس سب سے قبل ان تمام افراد کے ذہنی پس منظر کو ملحوظ خاطررکھنابھی لازم ہے۔اس بات کو آپ یوں سمجھ لیں گے دوتین دہائیاں قبل جب تک میڈیاکے اثرات نہ تھے۔ہمارے معاشرے میں اگرچہ پردہ اتنا زیادہ نہیں تھالیکن اس کے باوجود فحاشی اور دیگر گناہ بہت کم تھے۔ اس کی وجہ ذہنوں میں کسی بھی فتورکی کمی تھی لیکن اس وقت میڈیاکی اس یلغار نے یہ حال کیا ہے کہ باقاعدہ اختلاط سے آگے بڑھ کر ناجائز تعلقات قائم کرنا تک سکھایا جاتا ہے اور یہ مسلسل ہوتاہے۔یہاں تک کہ اب ہمیں یہ برا ہی نہیں لگتا۔آپ اس کی مثال اسی ویلنٹائن ڈے اور اس کے پس وپیش میڈیاپر چلنے والے اشتہاری پیغامات سے سمجھ سکتے ہیں۔میڈیانے ہمارے ذہنوں کو اس قدر خراب کیاہے کہ اب اختلاط کی کوئی بھی صورت باعث فتنہ ہی نظرآتی ہے۔اس لیے جائز اختلاط سے بھی پرہیز ہی اب بہتر ہے۔
خواتین کے حقوق کی اگر بات کی جائے تو اسلام سے بڑھ کر حقوق کون دیتاہے کہ وہ عورت کو ہتھیلی کے چھالے کی مانند بناکررکھتاہے۔ اسے معاشرے کے سرد وگرم سے بچاتاہے اورکبھی اسے معاش کی ذمہ داریوں سے عہدہ براء ہونے کی مشقت میں مبتلا نہیں کرتا لیکن اگریہی عورت خود معاشرے میں جاکر دھکے کھانے کو ہی آزادی سمجھے اور غیرلوگوں کی خدمت کوہی اپنامقام سمجھے تو اس کی عقل پرتف کے سوا او رکیاکیا جاسکتاہے۔ معاشرے میں اگرکوئی مرد عورتوں کے کے کام کرنے لگے توہرایک اس کامذاق اڑاتاہے یعنی اگر وہ عورتوں کالباس پہنے یاعورتوں کی طرح بات کرے یاکوئی بھی ایسافعل جو نسوانیت کے ساتھ خاص ہے ،یہ اس لئے ہے کہ مرد کے افعال اس کے ساتھ خاص ہیں۔ان کی حدود ہیں جب وہ ان حدود سے تجاوز کرتاہے تونہ صرف احمق تصورہوتاہے بلکہ مضحکہ خیز بھی قرار پاتاہے اور یہ صورتحال پوری دنیامیں ہے جبکہ اس کے برعکس اگرہم دیکھیں تو عورت کومردوں کے کام کرنے میں میڈیا نہ صرف حوصلہ افزائی کرتاہے بلکہ پوری محنت اورقوت اس پر صرف کرتا ہے کہ وہ اپنے کام چھوڑے اورمردوں والے کام کرے۔ یوں جب ایک فریق قدرت کی طرف سے طے کردہ اپنے مدار سے تجاوزکرے گا تویقینا توازن بگڑے گا۔یہ اس لیے ہے کہ اس سرمایہ دارانہ نظام کو عورت کی صورت میں سستی لیبر درکارہے۔اسی باعث ایک مشہورعام فقرہ بھی ذکر کیا جاتاہے کہ اگر عورت گھر بیٹھے گی تومعاشرے کانصف حصہ بیکار رہے گا۔ یوں اس کوبھی گھرسے باہرنکالو لیکن یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ نصف حصہ گھرمیں بیٹھے گا توباقی نصف نہایت اطمینان اور تسلی بخش انداز سے معاشرے کی ضروریات پوری کرے گا۔ جبکہ اگر اس نصف کوبھی باہرنکالو گے تونہ صرف معاشرتی بگاڑ پھیلے گابلکہ بے روزگاری بھی بڑھے گی۔
ایک نکتہ اس سلسلے میں اوربھی ذہن میں رکھیں ۔ اگر مردوعورت یکساں ہیں ۔دونوں برابر ہیں اورہرکام میں برابرکے شریک ہیں تو پھر نیم برہنگی صرف عورت ہی کے حصے میں کیوں آتی ہے؟مردکیوں آدھی ننگی ٹانگوں اور بازوؤں کے ساتھ نہیں گھومتے ہیں کیونکہ اس عورت کو ہوس کی پیاس بجھانے کے لیے ہی اس سرمایہ دارانہ معیشت اور کاسمیٹک انڈسٹری نے تیار کیاہے۔ اس نے ہی عورت کو شوپیس بنایاہے اور گھر کے آراستہ چھپے ہوئے موتی سے بازار کا دو کوڑی کابے مول پتھر بنا دیا ہے۔

Print Friendly

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>